Login Form

اسلامی مذاہب میں اتحادکے اہم نکات- حصه دوم

اہل بیت (علیہم السلام) کی مرجعیت” : مرجعیت علمی'' سے مراد وہ مشترک نقطہ ہے جس پر تمام   مسلمان متفق ہیں اور مسلمانوں کے اختلافی مسائل وہاں پر ختم ہوجاتے ہیں، خصوصا اعتقادی اور شرعی مسائل میں اہل بیت (علیہم السلام) قرآن وسنت سے حقائق کو واضح کردیتے ہیں(



بی آزار شیرازی، ش ١٨٤، ص ١٤۔ تسخیری، ص ١٣۔ وہی حوالہ،ش ١٧٤، ص ٢٩۔ سبحانی، ص ٢٦۔ ایازی، ش ٣٧۔ ٣٨، ص ٣٣٨) ۔

خداوند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے : اگر کسی چیز میں تمہارے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس میں خدا اور رسول کی طرف مراجعہ کرو (سورہ نسائ، آیت ٥٩) ۔ اور ہم نے تمہارے اوپر کتاب صرف اس لئے نازل کی ہے تاکہ تم ان کے اختلاف کو کتاب کے ذریعہ بیان کرو (سورہ نحل، آیت ٦٤) ۔

قرآن اور اہل بیت (علیہم السلام) کی علمی مرجعیت

یقینا مدرسہ اہل بیت (علیہم السلام)، تفسیر ، تاویل، قرآن کے معانی و مفاہیم کو بیان کرنے کے میدان میں فرق و مذاہب اسلامی کے تمام مدارس سے برجستہ اوربہتر ہے ۔اس برجستگی کی دلیل یہ ہے کہ اہل بیت ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے اور وحی سے متصل رہے ہیں ۔

بحار الانوار اور کافی میں اہل بیت (علیہم السلام) کی مرجعیت کے متعلق بیان ہوا ہے : '' یہ قرآن کی تاویل و تفسیر کے عالم ہیں'' (کلینی، ١٣٨٨ ق، ح١، ص ٢١٣ و مجلسی، ١٣٦٠ش، ص ٨٩ ۔ ٩٩) ۔

١۔ اہل بیت (علیہم السلام) اہل ذکر ہیں:''فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون'' اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے سوال کرو (سورہ نحل، آیت ٤٣) ۔

تفسیر طبری میں جابر جعفی سے نقل ہوا ہے: جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو علی (علیہ السلام) نے فرمایا: '' نحن اھل الذکر'' (طبری، ١٤٢١ ق، ج١٧، ص ٥٩) ۔

حارث نے کہا ہے: ''سالت علیا عن ھذہ الایہ ''فاسئلوا اھل الذکر'' فقال : واللہ انا نحن اھل الذکر، نحن اھل الذکر، نحن اھل الذکر و نحن معدن التاویل و التنزیل'' (حسکانی، گذشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٣٢) ۔

٢۔ اہل بیت (علیہم السلام) راسخون فی العلم ہیں: ''وَ ما یَعْلَمُ تَأْویلَہُ ِلاَّ اللَّہُ وَ الرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنا وَ ما یَذَّکَّرُ ِلاَّ أُولُوا الْأَلْبابِ

اس کی تاویل کا حکم صرف خدا کو ہے اور انہیں جو علم میں رسوخ رکھنے والے ہیں - جن کا کہنا یہ ہے کہ ہم اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ سب کی سب محکم و متشابہ ہمارے پروردگار ہی کی طرف سے ہے اور یہ بات سوائے صاحبانِ عقل کے کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے (سورہ آل عمران، آیت ٧) ۔

امام علی (علیہ السلام) راسخون فی العلم کے متعلق فرماتے ہیں:

'' این الذین زعموا انھم الراسخون فی العلم دوننا، کذبا و بغیا علینا ان رفعنا اللہ و وضعھم و اعطانا و حرمھم وادخلنا و اخرجھم بنا یستطعیی الھدی و یستجلی العمی'' کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ قرآن کے عالم ہیں، وہ ہم پر جھوٹا الزام اور ستم کرتے ہیں، خداوند عالم نے ہمیںبلند درجات عطا کئے ہیں اور ان کو پست قرار دیا ہے ، خداوند عالم نے ہمیں عطا کیا ہے اور ان کو محروم رکھا ہے، ہمیں اس نے اپنی عنایت ومہربانی میں داخل کیا ہے اور ان کو اس سے باہر کیا ہے ۔ وہ ہماری ہدایت کے ذریعہ راہنمائی پاتے ہیں اور اندھے دلوں کی روشنی بھی ہم ہی سے لیتے ہیں(نہج البلاغہ، خطبہ ١٤٤) ۔

٣۔ کتاب کا علم ، اہل بیت (علیہم السلام) کے پاس ہے: ''وَ یَقُولُ الَّذینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلاً قُلْ کَفی بِاللَّہِ شَہیداً بَیْنی وَ بَیْنَکُمْ وَ مَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتاب'' ۔ یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں تو کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے (سورہ رعد، آیت ٤٣) ۔

ابوسعید خدری کہتا ہے : سلت رسول اللہ عن ہذہ الایہ قال: ذاک اخی علی بن ابیطالب. (حسانی، گذشتہ حوالہ، ج1، ص400 و 422و شیخ صدوق، 1410ق، ج3، ص453).

اور دوسری بہت سی آیات جیسے آیہ تطہیر(احزاب33)، اکمال (مائدہ3)، ولایت (مائدہ55)، اولی الامر (نسائ،آیت59)، صادقین (سورہ توبہ، آیت110)، مس (واقعہ، آیت77۔79)، اعتصام (آل عمران103)، اولوالعلم )آلعمران18)، من یشری نفسہ (بقرہ23)، مباہلہ (آلعمران61)، مناجات (مجادلہ12)، ہل اتی (انسان)، خیر البریہ (بینہ7)، سلام علی آل یاسین (صافات130) و راہ مستقیم (انعام153)وغیرہ اہل بیت (علیہم السلام) کی مرجعیت پر بہترین دلیل ہیں ۔

سنت نبوی اور اہل بیت (علیہم السلام) کی علمی مرجعیت

چونکہ اہل بیت (علیہم السلام) راسخون فی العلم ہیں، انہوں نے تاویل کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے اخذکیا ہے اور بیت وحی میں ان کی تربیت ہوئی ہے، لہذا ان میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ یہ تاویل سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور یہ مقام و منزلت پر ہیں جس پر کوئی معمولی انسان نہیں پہنچ سکتا ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنی نبوت کے آغاز ہی میں متعدد مرتبہ اہل بیت (علیہم السلام) کی علمی مرجعیت کو مسلمانوں کے سامنے پیش کیا ہے ۔

١۔ اہل بیت (علیہم السلام) عدل قرآن اور قرآن ناطق ہیں

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حدیث ثقلین میں فرمایا ہے :

انی تار فیم ما ان تمستم بہ لن تضلوا بعدی، احدہما اعظم من الاخر: تاب اللہ حبل ممدود من السما الی الرض، وعترتی اہلبیتی، ولن یتفرقا حتی یردا علی الحوض، فانظروا یف تخلفونی فیہما

میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں جن کی وجہ سے تم گمراہ نہیں ہوں گے ان میں سے ہر ایک دوسری سے بڑی ہے، ایک اللہ کی کتاب ہے جو آسمان سے زمین تک کھینچی ہوئی ہے اور دوسرے میری عترت و میرا خاندان ہے ۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے، لہذا خیال رکھنا اور احتیاط کرنا دیکھو میرے بعد تم کس طرح ان سے سلوک کرتے ہو (مسلم، ج4، ص1873) ۔

اس حدیث کو تیس سے زیادہ اصحاب نے نقل کیا ہے اور اہل سنت کے صحاہ ستہ میں بھی یہ حدیث نقل ہوئی ہے ، بہت سے اہل سنت علماء کا نظریہ ہے کہ حدیث ثقلین اہل بیت (علیہم السلام) کی مرجعیت پرتاکید کرتی ہے ۔

شیخ محمد ابوزہرہ کا نظریہ ہے کہ حدیث ثقلین اہل بیت (علیہم السلام) کی سیاسی مرجعیت سے زیادہ ان کی علمی اور فقھی مرجعیت پر دلالت کرتی ہے : لایدل علی امامہ السیاسہ وانہ ادل علی امامة الفقہ والعلم (ابوزہرہ، 1993م، ص199) ۔

٢۔ اہلبیت (علیہم السلام) امت اسلامی کیلئے امان ہیں

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:

النجوم امان لاہل الارض من الغرق واہلبیتی امان لامتی من الاختلاف۔ ستارے زمین والوں کو غرق ہونے سے بچاتے ہیں اور میرے اہل بیت میری امت کو اختلاف سے محفوظ رکھتے ہیں ۔(نیشابوری، گذشتہ حوالہ، ج3، ص162) ۔

٣۔ اہل بیت (علیہم السلام) قرآن وسنت کے اعتبار سے عام لوگوں سے زیادہ اعلم ہیں

امام علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں:

انا نحن اہل البیت اعلم بما قال اللہ ورسولہ (ابن سعد، ج6، ص240) ۔

دوسری بہت سی حدیثیں جیسے : حدیث غدیر، حدیث کسائ، مدینہ العلم، سفینہ اور منزلت، فریقین کی کتابوں میں موجود ہیں جو اہل بیت کی مرجعیت کو واضح طور سے بیان کرتی ہیں ۔

مرجعیت علمی اہلبیت (علیہم السلام) و امت اسلامی

تعلیمات اسلامی کو منتشر کرنے خصوصا قرآن کریم کی تفسیر اور سنت نبوی کو بیان کرنے میں اہل بیت (علیہم السلام) کا ممتاز اور بے نظیر کردار کسی بھی منصف مزاج مسلمان سے جس نے علوم دینی اور تاریخ اسلام کا ذرا سا بھی مطالعہ کیا ہے، چھپا ہوا نہیں ہے ۔لیکن یہاں پر اپنی بات کو مستند کرنے کیلئے اصحاب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور اسلامی مذاہب کے راہنمائوں کا اہل بیت (علیہم السلام) کی علمی مرجعیت کے متعلق اعترافات کو نمونہ کے طور پر بیان کریں گے:

حضرت عمر فاروق نے اپنی زندگی میں متعدد مرتبہ حضرت علی علیہ السلام کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے : لولا علی لھلک عمر (ابن عبدالبر، 1415ق، ج3، ص1103۔ابن ابی الحدید، ج12، ص179 و 204 و ج 18، ص141۔ ابن قتیبہ، 1400ق، ص152۔رزندی حنفی، ص 130و132۔ایجی، 1412ق، ج3، ص636و637۔ متقی ہندی، 1405ق، ج13، ص 584۔ مغرمی، 1403ق، ص71۔عیاشی، ج1، ص75۔ قمی، 1366، ج1، ص407۔ باقلانی، 1414ق، ص476 و 502؛ سمعانی، 1418ق، ج5، ص154 و رازی، 1398ق، ج1، ص205) ۔ و نیزکہا ہے: انت (یا علی)خیرھم فتوی (متقی ہندی، گذشتہ حوالہ، ج8، ص600۔محمد بن سعد، ج2، ص339 ۔ اور بلاذری، 1974م، ص 177) ۔

بہت سے اہل سنت علماء نے اہل بیت (علیہم السلام) کی افضلیت کا اعتراف کیا ہے ، مندرجہ ذیل چند نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

ابن عساکرنے اپنی تاریخ میں امام زین العابدین (علیہ السلام) کی سوانح عمری لکھتے ہوئے ابن حازم سے نقل کیا ہے : میں نے کسی بھی ہاشمی شخص کو علی بن الحسین سے بہتر نہیں پایااور کبھی کو بھی ان سے زیادہ فقیہ نہیں پایا ۔ (ذہبی، 1417ق، ج4، ص9و3 ۔ ابن ابی الحدید، ج15، ص 725) ۔ عبداللہ بن عطا نے کہا ہے: تمام علماء اور متفکرین علمی لحاظ سے امام محمد باقر (علیہ السلام) سے بہت کم ہیں ۔ (حافظ اصفہانی، 1407ق، ج1، ص68) ۔ فخر رازی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں: ہم سب چیزکو بھول سکتے ہیں لیکن یہ نہیں بھول سکتے کہ علی (علیہ السلام) کا قول تمام صحابہ پر اولویت رکھتا ہے ، کیونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: علی مع الحق والحق مع علی (فخر رازی، 1405ق، ج1، ص111) ۔

حسکانی نے مجاہدسے روایت کرتے ہوئے کہا ہے: یقینا حضرت علی (علیہ السلام) کے ستر ایسے فضائل ہیںجو اصحاب پیغمبر میں سے کسی کے نہیں ہیں، اور اصحاب کے کوئی ایسے فضائل نہیں ہیں جن میں حضرت علی شامل نہ ہوں ۔(حسکانی، گذشتہ حوالہ، ص ١٧)این ابی الحدید کہتے ہیں: اس شخص کے بارے میں کیا کہوں جس کی فضیلت کا دشمن اور دوست سب اقرار کرتے ہیں اور دشمن آپ کے فضائل و مناقب کا انکار کرسکے اور نہ ان کو چھپا سکے...

ابن خلدون ،اہل بیت (علیہم السلام) کے علمی مقام و منزلت کے بارے میں کہتے ہیں:

جب کسی عام آدمی سے کرامات ظاہر ہونے کا امکان پایا جاتا ہے تو کیا اہل بیت (علیہم السلام) سے یہ کرامات ظاہر نہیں ہوسکتے ! جب کہ اہل بیت (علیہم السلام) نے علم او ردین کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے لیا ہے اور خداوند عالم نے اپنی عنایتوں کو پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بخشا ہے اور وہی عنایتیں پھر آپ کی پاکیزہ شاخوں کو عطاء کی ہیں(ابن خلدون، ١٣٦٦ ش، ص ٣٣٤) ۔

محمد فرید وجدی مصری کہتے ہیں: حضرت علی (علیہ السلام) میں ایسے صفات موجود تھے جو دوسرے خلفاء میں نہیں تھے )وجدی، ١٩٧١م، ج٦، ص ٦٥٩) ۔ شہرستانی نے بھی متعدد جگہ پر اشاعرہ، معتزلہ اور اسلامی فرق و مذاہب کی تختی کی ہے اور صرف مسلمانوں کی علمی مرجعیت کو خاندان عترت میں بیان کیا ہے (عرفان، ش ١٢١١، ص ٢٨٧) ۔

اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ایک طرف تو اہل بیت (علیہم السلام) کی علمی مرجعیت پر قرآن اور روائی دلیلیں موجود ہیں اور دوسری طرف بعض خلفاء اور اہلسنت کے بزرگ علماء نے اس کا اعتراف کیا ہے ، اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پوری تاریخ اسلام میں شیعوں نے اہل بیت (علیہم السلام) کو اس نقطہ نظر سے کیوں نہیں دیکھا اور زیادہ تر انہوں نے ائمہ کی امامت کی زعامت و حکومت کے معنی پر تاکید کی ہے ۔ شاید شیعوں کا اہل بیت کو اس نقطہ نظر سے دیکھنے کا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلاف کا سب سے پہلا نقطہ زعامت و حکومت ہے جس کو حدیث ١نذار، حدیث منزلت اور حدیث غدیر نے بیان کیا ہے اور دوسری طرف یہ روایات اپنے صادر ہونے کی وجہ سے حدیث ثقلین پر زمانے کے لحاظ سے مقدم ہیں ۔

محبت اہلبیت (علیہم السلام)

اہل بیت (علیہم السلام) سے دوستی و محبت ، اسلام، اور تقریب مذاہب اسلامی کے مشترک اصولوں میں سے ایک ہے جس پر قرآن وسنت نبوی نے بہت تاکید کی ہے اور تمام اسلامی فرقے ، خاندان رسالت سے محبت کرتے ہیں ، قرآن کریم نے اہل بیت (علیہم السلام) کی محبت اور دوستی کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رسالت کا اجر قرار دیا ہے: ''قل لاا سئلم علیہِ جرا ِلا المود فِی القربی''۔اے رسول کہدیجئے کہ میں تم سے اجر رسالت کچھ نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم میرے قرابتداروں سے محبت کرو (شوری23) ۔

...عن ابن عباس قال لما نزلت'' قل لااسئلم علیہ اجرا لا المودہ فی القربی'' قالوا: یا رسول اللہ من ہولاء الذین امرنا اللہ بمودتہم قال: علی وفاطمہ وولدہما؛

حسکانی، ابن عباس سے نقل کرتے ہیں:

جب آیہ مودت نازل ہوئی تو سب نے کہا : یا رسول اللہ! جن کی محبت کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے وہ کون لوگ ہیں؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: علی ، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے ۔ (حسکانی، گذشتہ حوالہ، ج2، ص189۔ ثعلبی، 1412ق، ج8، ص310۔ سیوطی، گذشتہ حوالہ، ج6، ص7۔ قرطبی، گذشتہ حوالہ، ج16، ص22۔ وفی، 1410ق، ص390۔ ابن ابی حاتم، 1419ق، ج10، ص3276۔ زمخشری، گذشتہ حوالہ، ج4، ص219۔ تستری، گذشتہ حوالہ، ج3، ص33۔ طبرسی، گذشتہ حوالہ، ج9، ص43۔ اور نسفی، 1419ق، ج3، ص280) ۔د

اس آیت کے پہلے دن سے ایک سے زیادہ معنی نہیں تھے اور وہ یہ ہیں کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ''ذی القربی'' سے محبت کرنے کی خواہش کی ہے ۔مفسرین ، محدثین، ادباء اور شعراء نے اس آیت سے ایک سے زیادہ معنی نہیں سمجھے ہیں اور وہ معنی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے رشتہ داروں سے محبت کرنا ہے ۔(سبحانی، ش174، ص26) ۔

اہل سنت متفکرین کی نظر میں محبت اہل بیت (علیہم السلام)

اہل بیت (علیہم السلام) کے فضائل و مناقب صرف شیعوں کے تاریخی، حدیثی اور کلامی ماخذ میں نقل نہیں ہوئے ہیں بلکہ صدیوں سے اب تک تمام اسلامی مذاہب کے علماء نے ان کے فضائل و مناقب کو بیان کیا ہے ۔ احمدبن حنبل (164۔241 ق) فضائل امیرالمومنین میں، بلاذری (م279ق) انساب الاشراف میں، نسائی (م303ق) خصائص امیرالمو منین میں، مردویہ (323۔410ق) مناقب میں، ابونعیم اصفہانی (334۔430ق) قرآن میں حضرت علی سے متعلق جو بیان ہوا ہے اس کے بیان میں،ابن مغازلی (م483ق) مناقب علی بن ابیطالب میں، حسکانی (پانچویں صدی ) شواہد التنزیل میں، خوارزمی (م568ق) تاریخ دمشق میں، ابن جوزی (581۔650 ق) تذکرة الخواص میں، جوینی (644۔730ق) فرائد السمطین میں، سیوطی (م910ق) القول الجلی فی فضائل علی اور ہزاروں مصنفین نے خاندان عصمت و طہارت کے بے شمار فضائل کو بیان کیا ہے اور اہل سنت کا اہل بیت (علیہم السلام) سے محبت کرنے پر یہ بہترین دلیل ہے ۔

بعض محققین کا نظریہ ہے کہ اہل سنت نے اہل بیت (علیہم السلام) کے فضائل و مناقب،خاندان پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے مربوط مختلف مسائل اور ان کی اسلامی اور انسانی خصوصیات کو ہزاروں کتابوں میں بیان کیا ہے ۔

چونکہ یہاںپر اہل بیت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے فضائل و مناقب سے متعلق اہل سنت کی تالیفات کا ذکر ہوگیا ہے تو یہ بھی بتادینا ضروری ہے کہ علماء اہل سنت نے خاندان رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور ائمہ طاہرین کے فضائل سے متعلق جو کتابیں لکھی ہیں اس کے علاوہ دوسری کتابوں میں بھی ان کے فضائل بیان کئے ہیں جیسے تفسیر،حدیث، اخلاق، کلام اور تاریخ وغیرہ کی کتابیں اور یہ نہیں بلکہ اہل سنت نے حضرت امام مہدی(علیہ السلام) کے فضائل و مناقب اور ان کی حکومت سے متعلق ٣٠ عناوین میں تقریبا ١٥٠ کتابیںلکھی ہیں (حکیمی، ص ٥١٦و ٥١٩) ۔

اہل سنت بعض موارد میں شیعوں سے زیادہ اہل بیت کو دوست رکھتے ہیں، ایک مجلہ میں ڈاکٹر فوزان کا ایک مقالہ پڑھا جس کا عنوان تھا ''اصول سنت و جماعت'' ۔ اس مقالہ میں ڈاکٹر فوزان نے اہل سنت و الجماعت کی دس اصل بیان کی تھیں اور اس کی ساتویں اصل کو محبت اہل بیت سے مخصوص کی تھی (بی آزار شیرازی، ش ١٧٤، ص ١٢) ۔

ولی امر مسلمین، حضرت آیة اللہ العظمی خامنہ ای (مدظلہ العالی) نے انٹر نیشنل اہل بیت کانفرنس میں جومسلمانوں کو ایک صف میں متحد کرنے کیلئے اہل بیت کی محبت کے کردار سے متعلق قائم ہوئی تھی ، فرمایا:اہل بیت کا مسئلہ اسلام کے بزرگ اور مہم مسائل اور دین مقدس کے درجہ اول کے مسائل میں سے ایک ہے ۔ محبت اہل بیت ایسا فریضہ ہے کہ جس کو دنیا کے ہر فرقہ سے وابستہ مسلمان نے قبول کیا ہے اور وہ اس پر فخر کرتے ہیں ، ہمیں افتخار ہے کہ ہم اہل بیت (علیہم السلام) کی فقہ کی پیروی کرتے ہیں اور ہم نے دین کے اصول و فروع کو ان سے لیا ہے لہذا ہمیں یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ محبت اہل بیت صرف ہم ہی سے مخصوص ہے اور ہمیں یہ غلط فکر نہیں کرنا چاہئے کہ اہل بیت صرف ہم ہی سے مخصوص ہیں ،اہل بیت (علیہم السلام) اسلام سے مخصوص ہیں، جس طرح ان کے جد امجد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اسلام سے مخصوص تھے ۔ اہل بیت (علیہم السلام) تاریخ اور جہان سے مخصوص ہیں جس طرح ان کے جد امجد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تاریخ اور بشر سے مخصوص تھے (www.leader.ir) ۔

نتیجہ:

مذکورہ بالا مباحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلامی مذاہب کے پاس بہترین اور اساسی ترین مشترک معیار و ملاک پائے جاتے ہیں جیسے قرآن کریم، سنت نبوی، مرجعیت علمی اہل بیت اور ان کی محبت ۔ قرآن کریم اور سنت نبوی ، شریعت کے دو اساسی اور اصلی مآخذ شمار ہوتے ہیں اور تمام اسلامی مذاہب کے مشترک ہونے کی وجہ بھی یہ دو مآخذ ہیں، اور دوسرے مآخذ کی حجیت کا دارو مدار بھی ان ہی پر منحصر ہے ۔ اسی طرح اہل بیت (علیہم السلام) کی علمی مرجعیت حقیقت میں سنت نبوی کو کامل اور جاری و ساری رکھے ہوئے ہے ، قرآن کریم نے رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خاندان سے محبت کرنے کومسلمانوں پر لازم قرار دیا ہے اور اسلامی مذاہب کے تمام فرقوں نے اس بات کو قبول کیا ہے اور تاریخی تجربہ بھی اس کوثابت کرتا ہے ۔

منابع و مآخذ

1- قرآن كريم.

2- ابن ابي الحديد، شرح نهج البلاغه، دار احياء التراث العربي، بيروت، ج12و18.

3- ابن ابي الحديد، شرح نهج البلاغه، دار احياء‌ التراث العربي، بيروت، ج15و1، 1385ق.

4- ابن ابي حاتم، عبدالرحمن‌بن محمد، تفسير القرآن العظيم، المكتبة العصرية، بيروت، چاپ دوم، ج10، 1419ق.

5- ابن خلدون، عبدالرحمن، مقدمه ابن خلدون، ترجمه محمد پروين گنابادي، انتشارات علمي و فرهنگي، تهران، 1366ش.

6- ابن سعد، الطبقات الكبري، دار صادر، بيروت، ‌ ج6.

7- ابن عبدالبر، يوسف‌بن عبدالله، الاستيعاب في معرفه الاصحاب، دار الكتب العلمية، بيروت، ج3، 1415ق.

8- ابن قتيبه، تأويل مختلف الحديث، دار الكتب العلمية، بيروت، 1400ق.

9- ابوزهره، محمد، الامام الصادق، (عصره وحياته ـ آراؤه و فقهه)،‌ دار الفكر العربي، قاهره، 1993 م.

10- آلوسي، سيد محمد، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم، دار الكتب العلميه، بيروت، ج3و4، 1415ق.

11- ايازي، محمدعلي، «جايگاه اهل‌بيت در تفسير قرآن»، بينات، ش 37ـ38.

12- ايجي، عضدالدين، المواقف، الشريف الرضي، قم، ج3، 1412ق.

13- باقلاني، محمد‌بن طيب، تمهيد الاوائل وتلخيص الدلائل، مؤسسة الكتب الثقافية، بيروت، 1414ق.

14- بلاذري، ابن اسحاق، انساب الاشراف، تحقيق و تعليق: محمدباقر محمودي،مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، ‌ بيروت، 1974ق.

15- بي‌آزاري شيرازي، عبدالكريم، «دانشمندان اسلامي و مرجعيت علمي اهل‌بيت»، كيهان فرهنگي، ش‌184.

16- بي‌آزاري شيرازي، عبدالكريم، «مودت اهل‌بيت محور وحدت مسلمانان»، كيهان فرهنگي، ش‌174.

17- ترمذي، محمد‌بن عيسي، سنن ترمذي، دار الفكر للطباعه والنشر والتوزيع، بيروت، چاپ دوم، ج1، 1403ق.

18- تستري، نورالله، احقاق الحق، مكتبه آيت‌‌الله العظمي المرعشي العامه، قم، ج3، 1404ق.

19- تسخيري، محمدعلي، «دانش اهل‌بيت محور وحدت»، كيهان فرهنگي، ش174.

20- تسخيري، محمدعلي، «وحدت اسلامي بر پايه مرجعيت علمي اهل‌بيت»، جايگاه اهل‌بيت در اسلام و امت اسلامي، (گزيده مقالات چهاردهمين كنفرانس بين‌المللي وحدت اسلامي).

21- تسخيري، محمدعلي، گفتگو در قرآن، اخبار تقريب، ش 51و52.

22- ثعلبي، احمد بن ابراهيم، الكشف والبيان عن تفسير القرآن، دار احياء التراث العربي، بيروت، ج8، 1412ق.

23- چشم و چراغ مرجعيت (مصاحبه ويژه مجله حوزه با شاگردان آيت‌الله العظمي بروجردي)، به كوشش: مجتبي احمدي، عبدالرضا ايزدپناه، حسين شرفي، سيدعباس صالحي، محمدحسن نجفي، دفتر تبليغات اسلامي، قم، چاپ 1، 1379 ش.

24- حافظ اصفهاني، ابونعيم، حليه الاولياء وطبقات الاصفياء، دار الكتب العربي، بيروت، ج1، 1407ق.

25- حسكاني، حاكم، شواهد التنزيل، انتشارات وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، تهران، ج2، 1411ق.

26- حكيمي، محمدرضا، «400 كتاب در شناخت شيعه»، يادنامه علامه اميني.

27- خيرخواه، كامل، كاشف الغطاء، فريادگر وحدت اسلامي، مكتب اسلام، ش8.

28- ذهبي، محمد‌بن احمد، سيره اعلام النبلاء، مؤسسه الرساله، بيروت، ج4، 1417ق.

29- رازي، ابوالفتوح، تفسير روح الجنان، كتاب فروشي اسلاميه، تهران، ج1، 1398ق.

30- رزندي حنفي، نظم درر السمطين.

31- زمخشري، محمود‌بن عمر، الكشاف، دارالمعرفه، بيروت، ج4، 1412ق.

32- سبحاني، جعفر، «احساسات شاعرانه در ستايش اهل‌بيت»، كيهان فرهنگي، ش 174.

33- سمعاني، تفسير السمعاني، تحقيق: ياسر‌بن إبراهيم و غنيم‌بن عباس‌بن غنيم، دار الوطن، الرياض، ج5، 1418ق.

34- سيد قطب، في ظلال القرآن، دار احياء التراث العربي، بيروت، ج1.

35- سيوطي، جلال‌الدين، الدر المنثور، دار الكتب العلميه، چاپ اول، ج2، 1421 ق.

36- شيخ صدوق، الامالي، مؤسسه الاعلمي للمطبوعات، بيروت، ج3، 1410ق.

37- طباطبايي، محمدحسين، الميزان، ترجمه سيدمحمدباقر موسوي همداني، دفتر انتشارات اسلامي جامعه مدرسين حوزه علميه قم، ج12، 1374 ش.

38- طبرسي، فضل بن حسن، مجمع البيان في تفسير القرآن، مؤسسه الاعلمي للمطبوعات، بيروت، چاپ اول، ج2، 1415ق.

39- ، مجمع البيان في تفسير القرآن، انتشارات ناصرخسرو، تهران، ‌ ج8، 1372‌ش.

40- طبري، محب‌الدين، مناقب الامام علي اميرالمؤمنين علي‌بن ابي طالب، بوستان كتاب، قم، 1383ش.

41- طبري، محمد‌بن جرير، جامع البيان، دار الفكر، بيروت، چاپ اول، ج17، 1421ق.

42- طوسي، محمد بن حسن، التبيان في تفسير القرآن، دار احياء التراث العربي، بيروت، ج2.

43- عرفان، فاضل، «اهل‌بيت در تفسير شهرستاني»، پژوهش‌هاي قرآني، ش11ـ12.

44- عياشي، محمد‌بن مسعود، تفسير العياشي، ج1.

45- فخر رازي، تفسير الكبير، دار الفكر، بيروت،‌ ج1، 1405ق.

46- قدردان قراملكي، محمدحسن، اسلام خاستگاه تفاهم و مدارا: هم‌زيستي مسالمت‌آميز از ديدگاه آموزه‌هاي اسلام و پيامبر اعظم، قدس.

47- قرطبي، الجامع لاحكام القرآن، دار احيا التراث العربي، بيروت، ج2.

48- قمي، علي‌بن ابراهيم، تفسير القمي، دارالكتاب، قم، ج2، 1367 ش.

49- قمي، محمد‌بن محمدرضا، تفسير كنزالدقائق، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، تهران، ج1، 1366ش.

50- كريمي حسيني، سيدعباس، تفسير عليين، انتشارات اسوه، قم، ج1، 1382 ش.

51- كليني، محمد‌بن يعقوب، كافي،‌ دار الكتب الاسلاميه، تهران، ج1، 1388ق.

52- كوفي، فرات‌بن ابراهيم، تفسير فرات الكوفي، مؤسسه الطبع والنشر التابعه لوزاره الثقافه والارشاد الاسلامي، تهران، چاپ اول، 1410 ق.

53- متقي هندي، كنز العمال، مؤسسه الرساله، بيروت، ج13، 1405ق.

54- مجلسي، محمدباقر، بحارالانوار، آخوندي، تهران، 1360ش.

55- محسني، محمد آصف، تقريب مذاهب از نظر تا عمل، نشر اديان، قم، 1386ش.

56- مسلم، صحيح مسلم، دار الفكر، بيروت، ج4.

57- مطهري، مرتضِی، جهاد، انتشارات صدرا،

58- مطهري، مرتضي، اسلام و مقتضيات زمان، انتشارات صدرا، تهران، 1362ش.

59- مطهري، مرتضي، سيري در سيره نبوي، انتشارات صدرا، چاپ 33، 1385ش.

60- مغرمي، احمد،‌ فتح الملك العلي، مكتبه الامام اميرالمؤمنين علي†، 1403ق.

61- مكارم شيرازي، ناصر، پيام قرآن، نسل جوان، قم، ج10، 1373.

62- مكارم شيرازي، ناصر، تفسير نمونه، دارالكتب الإسلاميه، تهران، ج11و16، 1374 ش.

63- نسفي، ابوالبركات، مدارك التنزيل وحقايق التأويل، دارالكلام الطيب، بيروت، ج3، 1419ق.

64- نيشابوري،‌ حاكم، مستدرك علي الصحيحين، دار المعرفه، بيروت، ج3، 1400ق.

65- هيثمي، علي‌بن ابي‌بكر، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، دار الكتب العلميه، بيروت، ج7، 1408ق.

66- واعظ‌زاده خراساني، محمد، زندگي آيت‌الله العظمي بروجردي، مجمع جهاني تقريب مذاهب اسلامي، 1379ش.

67- وجدي، محمد فريد، دائرة‌ المعارف، دارالمعرفه للطباعه والنشر، بيروت، ج6، 1971ق.

68- www. Leader.ir

منبع: مجله اندیشه تقرب

Last Updated (Monday, 12 July 2010 05:06)